اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے روزنامہ جنگ کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ "سعودی عرب کے شہر ” العشاء“ میں ایک شخص نے اپنی 28 سالہ اہلیہ کو محض اس لئے طلاق دیدی کہ اس نے ہر ہفتہ پکانے کیلئے ٹماٹر خریدنا شروع کردیئے تھے۔ شوہر نے طلاق دینے سے قبل سربازار اپنی بیوی کو تھپڑ بھی مارے، سعودی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس نے اپنی بیوی کو ٹماٹر خریدتے ہوئے اس وقت رنگے ہاتھوں پکڑ لیاجب وہ اجازت نہ ہونے کے باوجود ٹما ٹر خریدنے مارکیٹ گئی۔ یہ ہفتے میں دوسرا موقع تھا کہ اسے ٹماٹر خریدتے ہوئے پکڑا گیا"۔.بہرصورت سعودی عرب میں شرعی احکام کے میدان میں عجیب واقعات تو مسلسل رونما ہوتے رہتے ہیں لیکن اس طلاق کی اصل وجہ ٹماٹر کی خریداری بیان کی گئی ہے جبکہ شرعی احکام میں طلاق کے لئے متعینہ شروط میں "ٹماٹر کی خریداری" کہیں بھی پڑھنے کو نہیں ملی؛ چنانچہ پہلے تو ل"تا تھا کہ شاید یہ بھی وہابی علماء کی کرامات میں سے ہے لیکن تحقیق سے معلوم ہوا کہ سعودی عرب میں ٹماٹر کی قیمت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور سعودی باشندے اس کو Red Gold کہنے لگے ہیں اور معلوم ہوا کہ سر بازار طلاق دینے والے شوہر نے تھپڑ مارتے اور تین طلاقیں دیتے وقت ہی وجہ طلاق بھی بتا دی تھی اور وجہ یہی تھی کہ ٹماٹر کی قیمت بہت زیادہ ہے اور اس کی بیوی ہر روز 500 گرام ٹماٹر خریدنے لگی تھی اور اس کی یہ عادت شوہر کے لئے قابل برداشت نہ تھی۔
دوسری طرف سے مصر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایک 38 سالہ مرد نے ایک کلوگرام ٹماٹر خریدنے پر چهری مار کر اپنی 21 سالہ بیوی کو قتل کردیا ہے کیونکہ مصر میں ایک کلوگرام ٹماٹر کی قیمت آٹھ برطانوی پونڈ ہے اور قاتل شوہر کم آمدنی کمانے والا مزدور ہے جو اب جیل میں پڑا ہے اور بیوی کے قتل پر اشک ندامت پی رہا ہے۔............/110